مسلمان

مسلمان






مسلمان سے مراد وہ شخص ہے جو دین اسلام پر یقین رکھتا ہو ۔
 مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اسلام خدا کا دین ہے اور یہ دین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے بھی موجود تھا اور جو لوگ للہ کے دین پر عمل کرتے ہیں وہ مسلمان ہیں ۔ 

اب آتے اس مسئلے کی طرف جس کا سامنا آج کے دور میں ہر مسلمان کو ہے یا پھر یوں کہا جائے کہ پوری امتِ مسلمہ کو ہے ۔

فرقہ واریت ، شیعہ سنی تضاد ۔ 
وہ مسلمان جو کبھی جسدِ واحد کی مانند تھے، اس فرقہ واریت نے یا پھر زیادہ اہم شیعہ سنی تضاد کے باعث مسلمان حالیہ دور میں عروج کی بجائے زوال کی طرف گامزن ہیں اور یہ بات عام فہم لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سمجھنا نہیں چاہتے ۔ وہ مساجد و امام بارگاہیں جو امن و آشتی کا مرکز تھیں آج لوگ قتل و غارت گری کے خوف سے ان میں داخل ہونے سے کتراتے ہیں وہ مسلمان جو بھائی بھائی تھے آج فرقوں اور گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ۔ 
رسولِ خدا حضرت محمد (ص) نے فرمایا ہے کہ ، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے ، تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ 
تو پھر یہ فرقہ واریت اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور جس چیز کے بارے میں آپ پوری طرح علم ہی نہ رکھتے ہو اس کے بارے میں بات کرنا اوراایک  دوسرے کے مسلک کو نشانہ بنانا ، تو کیا یہ سب چیزیں آپ کے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتی ہیں ؟ 
شیعہ ، سنی کو کافر کہہ رہا ہے ، سنی شیعہ کو کافر کہہ رہا ہے ۔ 
تو پھر مسلمان کون ہے  ؟ اللہ کے دین پر عمل پیرا کون ہے ؟ 
قرآنِ مجید میں اللہ ہم سے مخاطب ہے ، ہم سے مراد وہ جو خود کو مسلمان سمجھتے ہیں خود کو تفرقوں میں نہیں بانٹے ہووے ،” اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ نہ پڑنے دو “ 
افسوس ہے مجھے کہ ہمارا رب ہمیں حکم دے رہا ہے کہ گروہوں میں نہ بٹو ،لیکن کیا ہم نے اپنے رب کا حکم مانا ہے ؟ 
ہم اپنے رب کا ایک چھوٹا سا حکم تو مان نہیں سکتے اور خود کو مسلمان کہتے پھرتے ہیں ۔ 
مسلمان جس فرقہ واریت کے لیے اپنی جان تک دینے کے لیے تیار ہے ، اسی کے بارے میں اللہ فرما رہا ہے کہ گروہوں مت بٹو ، تو کیا ہم اپنے مالک کی نا فرمانی نہیں کررہے اس مالک کی جس کو سارے اختیارات ہیں ، جس کے سامنے ہر چیز اس کے صرف ایک” کُن “ کی منتظر رہتی ہے ۔ تو پھر ہم قیامت کے دن اللہ اور رسولِ خدا حضرت محمد (ص) کو کیا منہ دکھائے گے ؟ 
اگر شیعہ ، سنی کو اور سنی ، شیعہ کو کافر کہے گا تو پھر جنت میں کون جائے گا ؟ کیا جنت یہودیوں اور کافروں کے لیے بنائی گئی ہے ؟ 
شیعہ اور سنی میں باہم مشترکہ عقائد ، 
        اللہ واحد اور لاشریک ہے۔ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
        حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔
        قرآن اللہ کی کتاب ہے اور اس کا ہر لفظ و حرف اللہ کی طرف سے ہے۔
        قیامت اور حساب و کتاب یعنی حیات بعد الموت پر ایمان
        نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی فرضیت پر ایمان
        فرشتوں، سابقہ انبیا اور کتب پر ایمان
جو لوگ ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں وہ مسلمان ہیں اور جو شیعہ ، سنی آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہیں اور کافر کہتے ہیں ان کا ایمان انتہائی کمزور ہے اور وہ لوگ صرف سنی سنائی باتوں پر عمل پیرا ہیں 
ایک دوسرے کو کافر کہنے والوں کو چائیے کہ انہیں سنی سنائی باتیں چھوڑ کر قرآنِ مجید کو ترجمے کے ساتھ  پڑھے کیونکہ قرآن کریم ہر طرح کے اختلافات میں ایک فیصلہ کن کتاب ہے ۔ قرآن کا ایک وصف یہ بیان ہوا ہے کہ وہ” فرقان “ ہے ۔ وہ حق و باطل میں فرق کرنے کی ایک کسوٹی ہے ۔ اس کسوٹی پر ہر عقیدہ کو رکھ کر اور پرکھ کر دیکھ لیجیے ۔ 
آپ کے ہر سوال کا جواب آپ کو خدا کے اس پاک کلام میں ملے گا ۔ اور اگر کسی سوال کا جواب آپ کو نہ ملے پھر خود سے سوال کرے کہ ، کیا یہ سوال وجود رکھتا بھی ہے کہ نہیں جس کا جواب میں تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ! 

اگر ہم فرقہ واریت کی لعنت پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنی پیغام ’’واعتصموا بحبل اﷲ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ کو اپنا حرزِ جاں بنانا ہو گا اور برداشت، اخوت اور رواداری کو اپناتے ہوئے جسد واحد کی طرح متحد ہونا ہو گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم باہمی اختلافات کو فراموش کر کے اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور اسلام کے خلاف ہونے والے منفی پراپیگنڈے کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیں، ہمیں اس واضح حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی بقا اور اس کا عروج فرقہ پرستی اور گروہی اختلافات میں نہیں بلکہ باہمی اتحاد و یکجہتی میں پنہاں ہے۔

تحریر:

زین عباس Follow us on Instagram : https://www.instagram.com/beyond_the_degrees

Follow us on Twitter : https://twitter.com/zain_abbas_1



No comments:

Post a Comment